محبت کی نہیں جاتی بس ہو جاتی ہے
زندگی ایک لمحےمیں کہیں کھوجاتی ہے
خود پہ اختیار ہے نا ہی دل پہ قابو ہے
بے قراری بےختیاری سی ہو جاتی ہے
اس کے ہر ظلم پہ سر جھکا ہی رہتا ہے
اورعزت نفس بھی کہیں سو جاتی ہے
یارب مجھے اس جیسا ہی دلکش بنا دیتا
جنکو دیکھتے ہی بس محبت ہو جاتی ہے
مانا کہ اسے چاہنے والوں کی کمی نہیں
تو کیاایسے میری چاہت کم ہو جاتی ہے
تم کیوں نہیں مان لیتے یہ سراب نہیں حقیقت ہے
دل میں اٹھتا ہوا یہ طوفان کچھ اورنہیں محبت ہے
اسکا ملنا قدرت کا انعام ہے یا کوئی سزا ہے
میرےدل کی مانگی ہوئی کوئی انمول دعا ہے
اسکودیکھنا، آنکھوں کی ٹھنڈک اوردل کا قرار
مجھ گناہ گارمیں موجود کسی نیکی کی جزاہے
No comments:
Post a Comment